پچھنے لگوانا (حجامہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور ایک بہترین علاج ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پچھنے لگوائے اور دوسروں کو ترغیب دی۔ پچھنا ایک قدیم علاج ہے جو کہ بہت مفید ہے۔ یہ گرم اور سرد دونوں علاقوں میں مفید ہے۔ چین کا یہ قومی علاج ہے اور پورے ملک میں یہ علاج کیا جاتا ہے۔ یہ عرب ملکوں کے علاوہ جنوب مشرقی ایشیاءکے ملکوں میں بھی رائج ہے۔امریکہ اور یورپ کی یونیورسٹیوں میں ان طلبہ کو جو کہ (Medicine Alternative) پڑھ رہے ہیں حجامہ(پچھنا لگوانا) پڑھایا اور سکھایا جاتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” شفاءدو چیزوں میں پوشیدہ ہے۔ پچھنا کے ذریعے کٹ لگوانے میں اور شہد کے استعمال میں“۔ ایک اور مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پچھنے سے علاج کرنے والا کیا ہی اچھا آدمی ہے کہ (فاسد) خون نکال دیتا ہے اور پشت کو ہلکا کر دیتا ہے اور نظر کو تیز کرتا ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ معراج کی رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر فرشتوں کی جس جماعت پر بھی ہوا انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ پچھنے کو لازم پکڑیں“ حضرت ابو کبثہ انماری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سر مبارک پر اور دونوں کندھوں کے درمیان پچھنا لگوایا کرتے تھے اور فرماتے: ”جس شخص نے (پچھنے کے ذریعے) اپنا گندہ خون نکلوادیا تو اب اسے کوئی خدشہ نہیں اس بات سے کہ وہ کسی بیماری کا کوئی علاج کرائے۔ ” حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جو چاند کی سترہ تاریخ کو پچھنے لگوائے تو یہ پچھنے لگوانا ہر بیماری کےلئے شفاءہے۔ حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر پر پچھنا لگوایا۔ قمری مہینے کی 17‘19 اور 21 تاریخوں میں پچھنا لگانا چاہیے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین دن جن میں تم پچھنا لگاتے ہو‘ وہ قمری مہینے کی سترھویں‘ انیسویں اور اکیسویں تاریخ کے دن ہیں“۔

روزہ کی حالت میں پچھنا لگوانا
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے۔
ہمارے تجربے میں جن امراض میں لوگوں کو شفاءحاصل ہوئی درج ذیل ہیں:
خاص طور پر دردِ سر ٭
٭ ٹینشن کی وجہ سے دردِ سر
٭ ڈپریشن
٭ شقیقہ
٭ کندھوں کا درد
٭ گردوں کا درد
٭ بلڈ پریشر
٭سر چکرانا
٭ کان میں آوازیں آنا
٭ کمر کا درد
٭عرق النسا
٭ ایڑی کا درد
٭ ٹانگوں کا درد
٭ نفسیاتی امراض
٭ جادو ( سحر)
٭برص
٭ گھٹنوں کا درد
٭ الرجی
٭ کسی بھی مقام پر درد ہو‘ وہاں پچھنا لگایا جائے تو انتہائی مفید ہے۔

پچھنا کے عام فوائد
خون صاف کرتا ہے اور حرام مغز کو فعال بناتا ہے۔
٭ شریانوں پر اچھا اثر ہوتا ہے۔
٭ پٹھوں کے اکڑاﺅ کو ختم کرنے کےلئے مفید ہے۔
٭دمہ اور پھیپھڑوں کے امراض اور انجائنا کےلئے مفید ہے۔
٭سردرد‘ دردِ شقیقہ اور دانتوں کے درد کو آرام دیتا ہے۔
٭آنکھوں کی بیماریوں میں مفید ہے۔
٭رحم کی بیماریوں اور ماہواری کےلئے مفید ہے۔
٭گنٹھیا اور عرق النساءمیں مفید ہے۔
٭فشار خون میں آرام پہنچاتا ہے۔
٭کندھوں ‘ سینہ اور پیٹھ کے درد میں مفید ہے۔
٭کاہلی‘ سستی اور زیادہ نیند آنے کی بیماریوں میں مفید ہے۔
٭ناسور،کیل‘ مہاسوں اور خارش میں مفید ہے۔
٭دل کے ضعف اور دردِ گردہ میں مفید ہے۔
٭زہر خورانی میں مفید ہے۔
٭مواد بھرے زخموں کےلئے مفید ہے۔
٭الرجی میں مفید ہے۔
٭جسم کے کسی حصے میں درد ہو تو اس جگہ لگانے سے فائدہ ہوتا ہے۔
٭صحت یاب لوگ بھی کرا سکتے ہیں کیونکہ یہ سنت ہے اور اس میں بیماریوں سے بچاﺅ ہے۔ جیسا کہ ہر علاج میں ایک معروف بات ہے کہ بعض مریضوں کو مکمل فائدہ ہوتا ہے اور بعض کو کم فائدہ ہوتا ہے اور بعض کو عارضی فائدہ ہوتا ہے کیونکہ شفاءاللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔

پچھنے لگانے کےلئے ضروری اشیائ
٭دستانے (صرف ایک مرتبہ استعمال کریں)
٭ ٹشو پیپر
٭ اسٹر لائیز کیا ہوا ریزر بلیڈ (نیا ریزر بلیڈ)
٭گلاس‘ پچھنا لگانے کےلئے۔

طریقہ
ہاتھوں پر دستانے چڑھا لیں ۔ درد کے مقام کی جلد کو اچھی طرح صاف کر لیں۔ بال ہوں تو انہیں سیفٹی ریزر سے صاف کر دیں۔ ورنہ گلاس جلد پر نہیں چپکے گا‘ گلاس کے اندر چھوٹا سا ٹشو پیپر جلا کر ڈال دیں اور گلاس کو درد کی جگہ پر رکھ کر ہاتھ سے دبائے رکھیں۔ ٹشو پیپر کے جلنے سے گلاس کے اندر کی آکسیجن ختم ہو جائے گی۔ اندر خلا ہونے اور باہر کی ہوا کے دباﺅ کے باعث گلاس جلد پر چپک جائے گا۔ اندرونی دباﺅ کے باعث مریض کی جلد ابھر کر گلاس کے اندر نصف کرہ کی شکل میں چلی جائے گی۔ جسم کا خون جلد کی سطح پر آکر جمع ہو جائے گا۔
٭گلاس کو ایسے ہی 5 منٹ چپکا رہنے دیں اور پھر انگلی کی مدد سے الگ کر دیں۔
٭اس جلد کے ابھر ہوئے حصہ پر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بلیڈ سے ہلکے ہلکے چیرے لگا دیں ‘ لیکن یہ چیرے رگوں اور نسوں کے قریب مت لگائیں۔
٭اب ایک مرتبہ پھر ٹشو پیپر میں آگ لگا کر گلاس کے اندر رکھ دیں تاکہ آکسیجن کے جلنے سے اس کے اندر خلا پیدا ہو جائے۔ گلاس کو اسی سرخ دائرہ والی جلد پر دوبارہ چپکا دیں۔ خلاءکے دباﺅ کے باعث چیرہ کے اندر سے خون رِس رِس کر گلاس میں جمع ہونے لگے گا۔ گلاس کو اسی حالت میں 5 منٹ تک رہنے دیں۔ یہاں تک کہ اس کے اندر خون جمع ہو کر جمنے لگے۔ پھر گلاس کوالگ کر دیں۔ ٭بہتر یہ ہے کہ پچھنا انہیں دنوں میں لگایا جائے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلائے ہیں۔ یعنی چاند کی 17‘ 19اور21 تاریخ کو ۔تاہم ضرورت کے تحت کسی دن بھی لگایا جا سکتا ہے۔ پچھنا صبح سویرے لگانا بہتر ہے۔ تاہم ضروری ہے کہ انسان خالی پیٹ ہو‘ کھانے کے 6 گھنٹے بعد اور مشروبات پینے کے 1½ گھنٹے بعد انسان کا معدہ خالی ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر اس کا اہتمام کر لیا جائے تو مضائقہ نہیں۔
٭پچھنا کا عمل مکمل ہو جانے کے بعد دستانے‘ ریزر بلیڈ اور گلاس کو احتیاط کے ساتھ ضائع کر دیں اور انہیں دوبارہ استعمال مت کریں اور بہتر یہ ہے کہ انہیں زمین میں دبا دیں جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا۔
٭پچھنا لگنے کے بعد غسل کر لیں‘ یہ مستحب ہے اور1گھنٹے تک کچھ نہ کھائیں۔
٭چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اپنے مریضوں کا علاج صدقہ سے کرو‘ اس لئے ہم اپنے مریضوں کو تلقین کرتے ہیں کہ کچھ صدقہ کر دیں اور شکرانے اور شفاءکی نیت سے دو رکعت نفل پڑھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں سنت پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔
نوٹ:اس کا اہتمام کیا جائے گا کہ گلاس جو استعمال کیا گیا ہے کسی دوسرے فرد پر نہ استعمال کیا جائے کیونکہ ایسا کرنے سے ہیپا ٹائٹس Bاور C اور ایڈز لگنے کا خطرہ ہے۔ پچھنا لگانے کےلئے کئی قسم کے آلات مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ ایسے آلات بہت خطرناک ہیں کیونکہ وہ گلاس بار بار استعمال کیا جاتا ہے۔ لہٰذا انہیں استعمال کرنے سے قطعی طور پر گریز کیا جائے۔ پچھنا لگانے کے لئے احتیاطی تدابیر ‘ پچھنا لگانے کے ممکنہ مقامات کی نشاندہی (تصویروں سے) کےلئے کتاب ” الحجامہ“ مصنف ”ڈاکٹر امجد احسن علی“کا مطالعہ کیجئے۔ یہ مضمون بھی اسی کتاب سے لیا گیا ہے۔

Comments are closed.

Copyright© Al-Hijamah Team
Bombax Theme designed by itx